بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
امام مسجد کا مسجد کی بجلی اور گیس وغیرہ استعمال کرنا
سوال
جواب
واضح رہے کہ کسی مسجد میں چندہ دینے والے اگر کسی خاص مصرف کے لیے چندہ دے دیں تو اس کو اسی مد میں خرچ کرنا ضروری ہے ۔ لیکن اگر چندہ دہندہ گان کسی خاص مصرف کی تعیین کئے بغیر چندہ دیں تو اس کو ان کے مطابق مسجد کے مصارف و مصالح میں خرچ کیا جاسکتا ہے ۔مصالح مسجد میں سے امام کی رہائش بھی ہے اورہمارے عرف میں امام مسجد کی رہائش گاہ کا بجلی ، گیس اور پانی کا بل بھی مسجد کے مصالح میں شمار ہوتا ہے اس لیے مسجد کے عمومی چندہ سے یہ اخراجات کرنا جائز ہے ۔ جہاں تک سر کاری مساجد کا تعلق ہے تو ان میں عرف کے ساتھ ساتھ متعلقہ محکمہ/ادارہ کے قوانین وضوابط کو مد نظر رکھنا ضروری ہے جس کو سامنے رکھ کر کوئی رائے دی جا سکتی ہے۔
والدلیل علی ذالک :
"واذا اراد ان یصرف شیا من ذالک الی امام المسجد او الی مؤذن المسجد فلیس لہ ذالک الا ان کان الواقف شرط ذالک فی الوقف " . (الفتاوی الہندیہ الفصل الثانی فی الوقف و تصرف القیم و غیرہ 2/463)
"وبما ذکرناہ علم انہ لو بنی بیتا علی سطح المسجد لسکنی الامام فانہ لا یضر فی کونہ مسجدا لانہ من المصالح ". (البحرا لرائق کتاب الوقف قولہ ومن جعل مسجدا تحتہ سرداب 5/421 )