بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ولور یعنی بیٹی یا بہن بیاہنے پر رقم لینے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ عورتوں کو بیچا جاتا ہے اور ایک مخصوص رقم اس عورت کا باپ ،بھائی یا اور کوئی رشتہ دار لیتا ہے پھر عورت کا کسی مرد سے نکاح کیا جاتا ہے شرعا اس طرح کے کام کا مرتکب گنہگار ہے يا نہیں ؟نیز کیا خرید کر نکاح کرنے والا بھی گناہ میں برابر کا شریک ہےجبکہ اس کو کہیں اور جگہ بغیر پیسوں کے رشتہ نہ ملتا ہو ۔

جواب

شریعتِ مطہرہ میں نکاح (شادی کرنا )صرف طبعی و شخصی ضرورت کی تکمیل ہی  نہیں ،بلکہ عبادت ہے اس لیے اس میں شرعی اصول کی  پاسداری  نہایت ضروری ہے کسی ناجائز رسم ورواج کے  تحت  اس کو مشکل ترین بنانا   احکام شریعت سے متصادم ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ۔

          جن علاقوں میں یہ رواج ہے کہ لڑکی کے نکاح کے بدلے اس کے والدین لڑکے یا اس کے والدین سے رقم وصول کرتے ہیں  شرعا  یہ رقم لینا جائز نہیں ایسے معاشروں میں  لڑکا مجبورا بادل ناخواستہ یہ رقم ادا کرتا ہے کیو نکہ اس کے بغیر  کوئی اسے رشتہ نہیں دیتا  فقہاء کرام ؒ نے  اسے رشوت قرار دیا ہے  چنانچہ لینے کے بعد بھی یہ رقم اس کی ملکیت میں نہیں آتی بلکہ ایسا مال بدستور دینے  والے کی ملکیت میں رہےگا  جو اس کو  واپس کرنا لازم ہے ۔

        بعض لوگ  اس ناجائز آمدنی کو  مہر کا نام دیکر  محض حیلہ بازی کرتے ہیں کہ یہ مہر ہے اور بیٹی کی رضا مندی سے   ہمارے  لیے اس رقم کا استعمال جائز ہے  درحقیقت یہ ایک ناکام حیلہ ہے  جس سے مقصود پیسے کا حصول ہے نہ کہ حق مہر کا تقرربعض علاقوں میں    لڑکے والوں سے ابتدایہ شرط لگائی جاتی ہے  کہ ہمیں اتنی رقم دوگے  جس میں  لڑکی کے والدین کا  اتنا حصہ  ہوگا  اور باقی لڑکی  کے لیے مہر ہوگا ۔معلوم ہوا کہ یہ رقم رشوت بنام مہر کے لیا جا تا ہے  جس میں لڑکی کے رشتہ دار جی چاہے تصرفات کرتے ہیں شرعا اس کا لینا  اور استعمال کرنا ناجائز ہے  تاہم اس سے انعقادنکاح  پر کچھ اثر نہیں پڑتا ۔

اگر  کہیں لڑکی اس زائد رقم لینے پر راضی بھی ہو جائے  تب بھی رشوت ہونے کی بنا پر یہ رقم لینا جائز نہیں ،اس لیے کہ یہ ناجائز آمدنی اور غلط رسم  ورواج پر مشتمل ہے  جس سے اجتناب ضروری ہے ۔البتہ  اگر کہیں پر لڑکے  کو بغیر پیسوں کے  رشتہ نہ ملتا ہو  تو ایسی صورت میں   بامر مجبوری مہر سے زیادہ رقم دے کر رشتہ طے کر نے سے امید  ہے   کہ یہ گناہ میں شریک نہ ہوگالیکن اس صورت میں  بھی لینے والےبہر حال گنہگار ہوں گے  ۔

عن ابن عباس رضی الله عنه ان رسول الله  ﷺ خطب الناس فى حجةالوداع۔۔۔ (وقال)لا يحل لامرئ من مال اخيه الا ما اعطاه من طيب نفس۔(السنن الكبرى للبيهقى، كتاب الغصب رقم الحديث 11719)۔

اخذ اهل المراة شيا عند التسليم فللزوج ان يسترده لانه رشوة ۔

وقال ابن عابدين تحته (قول:عند التسلیم)ای بان ابی ان یسلمها اخوها او نحوه حتی یاخذ شیا ،وکذا لو ابی ان یزوجها فللزوج الاسترداد قائما او هالكا لانه رشوة۔

       (رد المحتار مع الدر المختار،كتاب النكاح ،قبيل مطلب فى دعوى الاب ان الجهازعارية4/307 )

الرشوۃلا تملک بالقبض۔                      (الدر المختار،کتاب الحظر والاباحة9/607)

ولو تزوج امراة علي ان يهب لابيها الف درهم ،فهذا الالف لا يكون مهرا ،ولا يجبر على ان يهب ،فلها مهر مثلها ،وان سلم الالف فهو للواهب ،وله ان يرجع فيها ان شاء۔

(الفتاوى الهندية،كتاب النكاح،الفصل الرابع فى الشروط فى المهر1/374)


فتویٰ نمبر : 6155/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور