بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

دوکاندار کا ادھار کی وجہ سے قیمت بڑھانا


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دوکاندار سے گاہک مہینے بھر کا سودا قرض لے کر جاتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ مہینے کے آخر میں پیسوں کی ادائیگی کروں گا تو چونکہ یہ سودا قرض پر ہے تو کیا دوکاندار کے لیےیہ جائز ہے کہ وہ جو چیز نقد 10 روپے پر دیتا ہے تو قرض دار کو وہ 11 روپے پر دے ۔مثلا:ایک گاہک ہے جو کہ سودا اس بات کے وعدے پر لے کر جاتا ہے کہ مہینےكےآخر میں سارے پیسے دوں گا اب وہ پورا مہینہ قرض پر سودا لے کر جاتا ہے اور اس کے ذمہ ایک لاكھ روپے کھاتہ بن جاتا ہے مطلب پورا مہینہ وہ قرض سودا لے کر جاتا ہے اب جب کہ مہینہ ختم ہوجاتا ہے تو وہ بندہ اس ایک لاکھ روپے میں سے چالیس ہزار روپے دے دیتا ہے اور باقی ساٹھ ہزار اگلے مہینے کے لیے پھر بقایا کرجاتا ہے مطلب دوکاندار کے پیسے پھنس گئے اور صرف یہ کہہ دیتا ہے کہ اس مہینے پیسے نہیں ہيں تو کیا دوکاندار اس بندے کو جو سودا دیتا ہے اس کے لیے یہ بات جائز ہے کہ وہ اس گاہک کو دس روپے کی چیز بارہ روپے میں لگادے؟

جواب

شریعت مطہرہ نے بیع وشراء کی درستگی کے لیے عقد کے وقت قیمت متعین کرنا ضروری قرار دیا ہے۔بائع اور مشتری کی باہمی رضامندی سے نقد خریدنے کی صورت میں کم قیمت اور ادھار فروختگی کی صورت میں زیادہ قیمت  متعین کرنا شرعا درست ہے۔بشرطیکہ عقد کے وقت ادھار  یا نقد میں سے کوئی ایک صورت متعین کردی جاے۔نیز ادھار فروخت کرنے میں عقد کی درستگی کی لیے  یہ بھی ضروری ہے کہ رقم کی ادائیگی کی تاریخ متعین ہوجائے۔اور یہ بھی لازم ہے کہ ادائیگی میں تاخیر کی صورت اضافہ نہ کیا جائے۔

صورت مسئولہ میں گاہک اور دوکاندار کے لیے ضروری ہے کہ اول  ادھاریا نقد میں سےکسی ایک کی تعیین کرلیں۔اور قیمت بھی متعین کردیں اور ادھار کی صورت میں ادائیگی کی تاریخ بھی مقرر کرلیں اگر ان شرائط میں سے کسی ایک شرط کی بھی رعایت نہ رکھی گئی تو عقد فاسد  ہو جائے گا۔جس سےدونوں بائع ومشتری گناہ گار ہوں گے۔

ايسے گاہك جو مہینہ  بهركی مہلت پر  سامان لے جائيں ان كے لئے یہ بات مناسب نہیں كہ پيسوں كی ادائیگی ميں بلا عذر تاخير كريں اور دوكاندار كے ليے   ضروری ہے کہ تاخير كی صورت ميں متعين قيمت  ہی سے وصول كرے   قيمت ميں زيادتی كرنا دوكانداركے ليے جائز نہیں بلکہ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔ 

وَكَذَا إذَا قال بِعْتُكَ هذا الْعَبْدَ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ إلَى سَنَةٍ أو بِأَلْفٍ وَخَمْسِمِائَةٍ إلَى سَنَتَيْنِ لِأَنَّ الثَّمَنَ مَجْهُولٌ۔۔۔۔۔فإذا عَلِمَ وَرَضِيَ بِهِ جَازَ الْبَيْعُ لِأَنَّ الْمَانِعَ من الْجَوَازِ وهو الْجَهَالَةُ عِنْدَ الْعَقْدِ وقد زَالَتْ في الْمَجْلِسِ وَلَهُ حُكْمُ حَالَةِ الْعَقْدِ فَصَارَ كَأَنَّهُ كان مَعْلُومًا عِنْدَ الْعَقْدِ وَإِنْ لم يَعْلَمْ بِهِ حتى إذَا افْتَرَقَا تَقَرَّرَ الْفَسَادُ "    ( بدائع الصنائع ،جلد6،ص596، كتاب البيوع، فصل في شروط الصحه )

"وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كانا يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد"

( المبسوط للسرخسي، جلد13، صفحه13، دارالفكر بيروت لبنان )

 

 


فتویٰ نمبر : 2727/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور