بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
میت کے غیر شرعی نام کو تبدیل کرنایا عبدالرسول نام رکھنا
سوال
جواب
واضح رہے کہ حضور ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایسے نام تبدیل کئے ہیں جس کا ظاہری معنی یا شرعی عقائد سے متصادم تھا تاہم آپ ﷺ کا کسی میت کے نام میں تبدیلی ودرستگی کی روایت ہمیں معلوم نہیں ۔
صورت مسئولہ میں مسمی (عبدالرسول )چونکہ فوت ہو چکاہے اور بطور علامت اس کے قبر کے کتبہ اس کا نام لکھا گیا ہے اس لئے شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں اور نہ مردوں کے نام تبدیل کرنے کا کوئی حکم ہمیں دیا گیا ہے نیز عبد الرسول نام معنی مجازی کے اعتبار سے درست ہےیعنی رسول اللہ ﷺ کا تابعدار و غلام ،لہذا اس کو کفریہ نام کہنا یا اس کی وجہ سے کسی کو کافر قرار دینا جائز نہیں ۔البتہ عبد کے حقیقی معنی یعنی بندہ وعبادت گزار کے اعتبار سےچونکہ شرکی معنی پایا جاتا ہے اس لئے عبد الرسول یا عبد النبی نام رکھنے سے فقہاء کرام ؒ نے منع فرمایا ہے ،اور اگر کسی زندہ شخص کا نام عبدالرسول ہو تو اس کیلئے یہ نام تبدیل کرنا چاہیے تاہم کسی مردہ شخص کے غلط نام کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں -
والدليل علي ذلك:
وعن مسروق قال لقيت عمر فقال من أنت قلت مسروق ابن الأجدع قال عمر سمعت رسول الله يقول الأجدع شيطان ۔۔۔ وهو يحتمل أن يكون مطايبة من عمر رضي الله عنه أو تنبيها على تغيير هذا الاسم عن أبيه إن كان حيا ويقال له أبو مسروق إن كان ميتا واحتراسا من أن يسمى ولده باسم أبيه ويكنى بأبي الأجدع ۔ (مرقاۃ المفاتيح ،رقم الحديث 4767،ج8 ص525 )
ولا يسميه حكيما ولا أبا الحكم ولا أبا عيسى ولا عبد فلان۔۔۔۔ أقول ويؤخذ من قوله ولا عبد فلان منع التسمية بعبد النبي ونقل المناوي عن الدميري أنه قيل بالجواز بقصد التشريف النسبة والأكثر على المنع خشية اعتقاد العبودية كما لا يجوز عبد الدار۔ (ردالمحتار ، كتاب الحظر والاباحة ، 9/599)