بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لے پالک اولاد کا میراث میں حصہ


سوال

ایک شخص(صابر خان )فوت ہو چکا ہے جس کی اپنی کوئی اولاد نہیں ۔مرحوم نے اپنے ایک بھانجےاوربھانجی کو لے پالک بنایا ہے جن میں بھانجے(عامر)کا شناختی کارڈ مرحوم کے نام پر ہے جبکہ بھانجی کا اس کے حقیقی والد کے نام پر ،مرحوم کا ایک بھائی (امتیاز خان)اور ایک بہن (شمشاد بیگم )زندہ ہے شرعی لحاظ اس کے جائیداد کے حصہ داران کون کون ہے اور کتنا کتنا حصہ ان کو ملے گا؟ کیا اس لے پالک بیٹے کا میراث میں حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

جواب

  واضح رہے کہ لے پالک بیٹا یا بیٹی  محض لے پالک ہونے کی بنا پر میراث کے مستحق نہیں بنتے  اس لیے اگر ان کا میت سے کوئی اور رشتہ نہ ہو اور یا رشتہ ہو لیکن ان سے زیادہ استحقاق  والے ورثاء موجود ہو ں تو ایسی صورت میں لے پالک بیٹے یا بیٹی کا میراث میں کوئی حصہ نہ ہوگا          صورت  مسؤلہ میں چونکہ لے پالک بیٹا اور بیٹی رشتہ کے اعتبار سے بھانجا اور بھانجی ہیں اس لیے دونوں ذوی الارحام میں سے ہے چونکہ مرحوم (صابر خان ) کا ایک بھائی اور ایک بہن موجود ہیں اس لیے لے پالک بیٹا اور بیٹی میراث سے محروم رہینگے  تا ہم اگرمرحوم نے اپنی زندگی میں اس لے پالک بیٹے یا بیٹی  کو کوئی چیز دی ہو اور اس نے قبضہ بھی کیا ہو تو وہ اس کا مالک ہوگا اور مرحوم کا کوئی رشتہ دار  اس موہوبہ چیز میں وراثت کا دعوی نہیں کر سکتا ،یا مرحوم نے وفات سے پہلے اس کیلئے کوئی وصیت کی ہو تو تجہیز وتکفین اور قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال باقی رہ جاۓ اس کے ایک تہائی حصہ میں وصیت اور باقی دو تہائی میں میراث نافذ ہوگا اور اگر میت نے ان لے پالکوں کو نہ کوئی چیز بطور ہبہ دی ہو اور نہ ان کیلئے کسی چیز کی وصیت کی ہو تو بشرط صدق وثبوت اگر میت کے مذکورہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی قریبی زندہ وارث موجود نہ ہو تو بعد از ادائے حقوق متقدمہ علی الارث تمام متروکہ مال وجائیداد بحیثیت عصوبت للذکر مثل حظ الانثیین تین حصوں میں تقسیم ہو کر بھائی (امتیاز خان ) کو (2/3)حصےاور بہن(شمشاد بیگم)  کو ( 1/3) حصہ ملے گا پھر اگر وارثین اپنی رضا مندی سے ان لے پالکوں کو کچھ دینا چاہے تو دے سکتے ہے لیکن دینا لازم نہیں۔

فيبدا بذي الفرض ثم بالعصبة النسبية ثم بالعصبة السببية ۔۔۔۔ ثم ذوي الارحام ۔                                                                                                   (الفتاویالهندية ،كتاب الفرائض ج6/ص440)

وان کانوا اخوۃ رجالا ونساء فللذکر مثل حظ الانثیین                                      (النساء :176)

ورکنهاهو الايجاب والقبول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وتتم الهبة بالقبض الکامل               (الدر المختار ،کتاب الهبة ،ج 8 /ص490 )

 وتجوز (الوصية) بالثلث للاجنبی عند عدم المانع                        (الدر المختار ،کتاب الوصايا ج 10/ص339)


فتویٰ نمبر : 3093/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور