بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
فوجی یونٹ میں باقی ماندہ راشن کی خریدوفروخت
سوال
جواب
حکومتی اداروں کے ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ ادارے کے نظم ونسق سے متعلق صرف وہ امور انجام دیں جن کے وہ قانوناً مجاز ہوں کسی آفیسر کواپنی صوابدید پر کسی ایسے تصرف کااختیار نہیں جس کاقانوناً اسےاجازت نہ ہو، تاہم اگرکہیں پر قانون نے اس کوکسی معاملہ میں اپنی صوابدید پر تصرف کااختیار دیاہو۔توایسی صورت میں وہ صوابدیدی اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔صورت مسئولہ میں اگر چھٹی کرنے کی صورت میں ادارے کاسپاہی راشن کا حقدار نہ ہو، بلکہ وہ راشن گورنمنٹ ہی کی ملکیت میں باقی رہتا ہو،نیز آفیسر بالاکو قانوناً باقی ماندہ راشن کوفروخت کرنےاور پھر حاصل شدہ آمدنی کو یونٹ کے کاموں میں صرف کرنے کی اجازت ہو توایسی صورت میں متعلقہ آفیسر کا اس راشن کوفروخت کرنا اور ادارے کےدوسرے سپاہیوں کے لیے اس کو خریدنا جائز ہے۔ لیکن اگر آفیسر بالا کو قانوناً اس راشن کو فروخت کرنے کی اجازت نہ ہو تو پھر نہ تو اس کے لیے اس کوفروخت کرناجائز ہے اور نہ ہی دوسرے سپاہیوں کے لیے اس کا خریدنا جائز ہے۔ بلکہ متعلقہ ادارے کوواپس کرناضروری ہےقانون کے بغیر محض عرصہ دراز سے اس پر عملدرآمد کی وجہ سے یہ معاملہ جائز نہیں ہوسکتا۔
" (البیع)ھومبادلۃ المال بالمال بالتراضي و يلزم بإيجاب وقبول وضعا للمضی وبتعاط"۔ (كنز الدقائق كتاب البيع ص 258)
" وأماشرائط النفاذ فنوعان أحدهما الملك والولاية والثاني أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع"۔ (الفتاوٰی الهنديۃ،البيوع،ج3 ص6)