بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

فوجی یونٹ میں باقی ماندہ راشن کی خریدوفروخت


سوال

: کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک سرکاری سیکورٹی ادارہ ہے جس کے مختلف برانچزاور یونٹس ہیں، ادارے کے جوانوں (سپاہیوں ) کو راشن یعنی آٹا،چینی دال وغیرہ حکومت کی طرف سے دیاجاتاہےجس کی ہر دن کے لحاظ سے ایک مقدار مقرر کی گئی ہے،یہ راشن ہریونٹ کوجوانوں کی تعداد کے مطابق دیاجاتاہے پھر اسے یونٹ میں موجود حاضر سروس جوانوں کے استعما ل میں لایا جاتاہے(خواہ لنگر میں پک جائے خواہ خشک دیاجائے) جوانوں کی چھٹی حالات کے مطابق ہوتی ہےجب علاقے میں امن ہو تو وہاں چھٹیاں زیادہ ہوتی ہیں اور ان جوانوں کاراشن بچ جاتاہے پھر یہ بچاہوا راشن دوسرے حاضر سپاہیوں کو مارکیٹ سے کم قیمت پر فروخت کیاجاتاہے،اور حاصل شدہ آمدنی یونٹ کے مختلف کاموں میں آفیسر کی اجازت سےخرچ کی جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس بچے ہوئے راشن کوفروخت کرنا اور دوسرے سپاہیوں کے لیے اسے خریدنا جائز ہے؟ مسئلے کی مزید وضاحت کے لیے مندرجہ ذیل امور قابل غور ہیں: (1) ادارے کی طرف سے ملازمین کو یہ راشن بطور تملیک کے دیاجاتاہے کیونکہ بعض صورتوں میں انہیں خشک راشن یاراشن منی (پیسوں کی مدمیں) بھی دیاجاتاہے۔ (2) یہ ادارہ انیسویں صدی سے قائم ہے اور غیرمعینہ تاریخ سے یونٹ میں یہ معاملہ جاری ہے۔ (3) اس معاملے پر عام سپاہی سے لے کر آفیسر بالا تک ہر سپاہی کوخبرہے۔ (4) قانوناً ہرسپاہی ہر مہینے میں چار دن کی چھٹی کامجاز ہے۔ اور ان چار دن کے راشن کوبند کرنے کاحکم ہے۔

جواب

حکومتی اداروں کے ذمہ دار افراد پر لازم ہے کہ وہ   متعلقہ ادارے کے نظم ونسق سے متعلق صرف وہ امور انجام دیں جن کے وہ قانوناً مجاز ہوں  کسی آفیسر کواپنی صوابدید پر کسی ایسے تصرف کااختیار نہیں  جس کاقانوناً اسےاجازت نہ ہو، تاہم اگرکہیں پر قانون نے اس کوکسی معاملہ میں اپنی صوابدید پر تصرف کااختیار دیاہو۔توایسی صورت میں وہ  صوابدیدی اختیارات استعمال کرسکتا ہے۔صورت مسئولہ میں اگر چھٹی کرنے کی صورت میں  ادارے کاسپاہی راشن کا حقدار نہ ہو، بلکہ وہ راشن گورنمنٹ ہی کی ملکیت میں باقی رہتا ہو،نیز آفیسر بالاکو قانوناً باقی ماندہ راشن کوفروخت کرنےاور پھر حاصل شدہ آمدنی کو یونٹ کے کاموں میں  صرف کرنے کی اجازت ہو توایسی صورت میں متعلقہ آفیسر کا  اس  راشن کوفروخت کرنا اور  ادارے کےدوسرے سپاہیوں کے لیے اس کو خریدنا جائز ہے۔ لیکن اگر  آفیسر بالا کو قانوناً اس راشن کو فروخت کرنے کی اجازت نہ ہو تو پھر نہ تو اس کے لیے اس کوفروخت  کرناجائز ہے اور نہ  ہی دوسرے سپاہیوں کے لیے اس کا خریدنا جائز ہے۔ بلکہ متعلقہ ادارے کوواپس کرناضروری ہےقانون کے بغیر محض عرصہ دراز سے اس پر عملدرآمد  کی وجہ سے یہ معاملہ جائز نہیں ہوسکتا۔

" (البیع)ھومبادلۃ المال بالمال بالتراضي و يلزم بإيجاب وقبول وضعا للمضی وبتعاط"۔ (كنز الدقائق كتاب البيع ص 258)

" وأماشرائط النفاذ فنوعان أحدهما الملك والولاية والثاني أن لا يكون في المبيع حق لغير البائع"۔ (الفتاوٰی الهنديۃ،البيوع،ج3 ص6)


فتویٰ نمبر : 2736/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور