بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 30/08/2026 |
ادارہ/ٹرسٹ کا اجتماعی قربانی کرنا
سوال
جواب
واضح رہے کہ قربانی مالی عبادت ہے جس میں کسی کو اپنا نائب یا وکیل بنانا جائز ہے لہذا رفاہی ادارے کالوگوں کی طرف سے قربانیاں کرناجائزہے تاہم ادارہ کے لئے لازم ہے کہ وہ لوگوں سے قربانی کے لئے لی گئی رقوم نہایت امانت اور دیانت کے ساتھ قربانی کے شرعی قواعد و ضوابط کا لحاظ رکھتے ہوئے خرچ کرے ۔
صورت مسؤلہ میں ذکر کردہ شرط درست ہے البتہ اس میں مزید ایک شرط کا اضافہ کرنا چاہئے تاکہ قربانی کا یہ فريضہ شریعت کے مطابق ادا ہوسکے : وہ شرط یہ ہے کہ تمام شرکاء مسلمان ہوں اور سب کی نیت ثواب کی ہو چاہے وہ واجب قربانی ہو یا نفل ، چنانچہ قربانی میں شریک افراد میں سے کسی ایک کی نیت بھی اگر گوشت کی ہو تو تمام شرکاء کی قربانی ادا نہیں ہوگی ۔
ومنها أنه تجزئ فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه وبغيره بإذنه لأنها قربة تتعلق بالمال فتجزئ فيها النيابة ۔(بدائع الصنائع ، كتاب التضحية ، فصل في كيفية الوجوب ، 6/291)
أو كان شريك السبع من يريد اللحم أو كان نصرانيا ونحو ذلك لا يجوز للآخرين أيضا۔ (الفتاوی الهندية ، الباب الثامن فما يتعلق بالشركة في الضحايا ، 5/304)