بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
کسی ادارہ میں عورت کی ملازمت کا حکم
سوال
جواب
شریعت نے اصالۃ عورت پر کسب معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی بلکہ مردوں کو کسب معاش کا مکلف بنایا ہے چنانچہ شادی تک لڑکیوں کا نان نفقہ والد کے ذمے اور شادی کے بعد شوہر پر واجب قرار دیا ہے ،تاہم اگرکسی عورت کو معاشی تنگی کا سامنا ہو اورباپ/ شوہر اس کی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہو یا تساہل برتتا ہو یا عورت بیوہ ہو اور گھر میں رہتے ہوئے اس کے لئے کوئی ذریعہ معاش اختیار کرنا ناممکن ہو تو ایسی مجبوری اور ضرورت کے وقت عورت کو شرعی حدود و قیود میں رہتے ہوئے ستر و حجاب کی پابندی کے ساتھ باہر نکل کرکوئی حلال ملازمت کرنے کی اجازت ہوگی۔
صورت مسؤلہ میں ادارہ/ ٹرسٹ میں مجبور اور ضرورت مند باپر دہ خواتین کا شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے ملازمت کرنا درست ہے لیکن اگر کسی عورت کو نفقہ کی تنگی یا مخصوص حالات کے تحت معاشی بد حالی کا سامنا نہیں تو محض معیار زندگی بلند کرنے اور زندگی میں نام و نمود کے لئے گھر سے باہر نکل کر ملازمت کے لئے پیش قدمی کرنا شریعت کی نظر میں پسندیدہ عمل نہیں ۔
﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى﴾ (الأحزاب ، 33)
ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة۔ (الفتاوی الهندية ، فصل في نفقة الاولاد 1/584 )
تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها۔ (الفتاوی الهندية ، فصل في نفقة الزوجة 1/568 )