بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
رفاہی ادارہ میں زکوۃ و دیگر عطیات دینے اور صرف کرنے کاحکم
سوال
جواب
(1،2) واضح رہے کہ مستحقین افراد کی کفالت ، غریب بچوں/بچیوں کی تعلیم ، بیواؤں /یتیم اورمعذوروں کو ہنر مند بنانے کے لئے کسی ادارہ /ٹرسٹ کا قیام کرنا اور ان مستحقین افراد کے لئے مخیر حضرات سے مالی امداد و دیگر صدقات واجبہ(زکوۃ ، عشر ، کفارہ ، نذر) اور صدقات نافلہ (صدقہ، ہبہ ) وصول کرنا فی نفسہ جائزہے البتہ لوگوں سے لی گئی رقمیں پوری امانت و دیانت کے ساتھ شرعی ضابطہ کے مطابق خرچ کرنا ضروری ہے۔ صدقات واجبہ اور صدقات نافلہ کے خرچ میں فرق ہے اور وہ یہ کہ صدقات واجبہ میں مستحقین زکوۃ کو بلا عوض مالک بنانا ضروری ہے چنانچہ صدقات واجبہ کی رقم یا سازوسامان کسی مستحق کی تملیک کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا جبکہ صدقات نافلہ کو مالک کی مرضی اور اجازت کے مطابق کسی بھی مد میں استعمال کیا جا سکتا ہے ۔
(3،4،5) ادارہ/ ٹرسٹ اپنے ملازمین کی تنخواہیں ، آفس کے اخراجات (کرایہ ، یوٹیلیٹی بلز ، فرنیچر وغیرہ) اور ادارے کی ضروریات کے لئے دیگر اشیاء (مثلا: گاڑی ، یونیفارم ، پیکنگ شاپر وغیرہ) کی خریداری ان صدقات نافلہ سے تو کر سکتا ہےجو ادارہ کےعمومی مصارف کے لئے جمع کئے گئے ہوں جبکہ صدقات واجبہ سے تب تک نہیں کر سکتا جب تک کوئی مستحق تملیک کر کے اپنی خوشی سے ادارے کو نہ دے دے۔
(6) ادارے کا چیئرمین اگر سید ہو تو درج بالا وضاحت کے مطابق ادارے میں کام کرنے کے عوض اسے تنخواہ دینا درست ہے البتہ ادارہ کے ذمہ دار افراد کے تجربہ سے عرف کے مطابق تنخواہ مقرر کی جائے۔
ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد)۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء۔۔۔۔قوله ( نحو مسجد ) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكرى الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، باب المصرف ، 2/344)
وقيد بالزكاة لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي۔ (البحر الرائق ، باب المصرف ، 2/263)