بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

رفاہی ادارہ میں زکوۃ و دیگر عطیات دینے اور صرف کرنے کاحکم


سوال

مکرمی جناب مفتیان کرام ہم نے خیر الامۃ ٹرسٹ کے نام سے ایک رفاہی ادارہ قائم کیا ہے جس کے اغراض و مقاصد اور شرائط و ضوابط سوال کے ساتھ منسلک ہیں برائے مہر بانی ان پر غور و فکر کے بعد مندرجہ ذیل مسائل کا قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل جواب دیجئے: 1. ادارہ خیر الامۃ ٹرسٹ مذکورہ مصارف کے لئے عوام الناس اور مخیر حضرات سے مالی امداد وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟ 2. ادارہ خیرالامۃ ٹرسٹ ہر قسم امداد مثلا: زکوۃ ، صدقات ، عشر اور چرم قربانی وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟ 3. ادارہ خیر الامۃ ٹرسٹ مذکورہ مد میں جمع شدہ رقم سے آفس کا ماہانہ کرایہ ، ایڈوانس رقم برائے آفس ، بجلی ، گیس، ٹیلیفون بلز ، فرنیچر اور سٹیشنری وغیرہ کے لئے رقم دے سکتا ہے یا نہیں؟ 4. ادارہ خیر الامۃ ٹرسٹ اپنے ادارے میں کام کرنے والے رضاکار حضرات کو معاوضہ بصورت مناسب تنخواہ دے سکتا ہے یا نہیں؟ 5. ادارہ خیر الامۃ ٹرسٹ اپنی ضروریات مثلا: گاڑی ، موٹربائیک ، پیکنگ شاپر ، یونیفارم اور جاکیٹ وغیرہ برائے رضا کار خرید نے کے لئے رقم دے سکتا ہے یا نہیں؟ 6. ادارہ خیر الامۃ ٹرسٹ کا چیئرمین بذات خود صاحب حیثیت اور (سيّد) ہے ، کیا وہ ادارہ میں کام کرنے اور وقت دینے کا معاوضہ بصورت مناسب تنخواہ لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

(1،2)  واضح رہے کہ مستحقین افراد  کی کفالت  ،  غریب بچوں/بچیوں کی تعلیم  ، بیواؤں /یتیم اورمعذوروں کو ہنر مند بنانے کے لئے کسی ادارہ /ٹرسٹ کا قیام کرنا اور ان مستحقین افراد کے لئے مخیر حضرات سے مالی امداد و دیگر صدقات واجبہ(زکوۃ ،  عشر ، کفارہ ، نذر) اور صدقات  نافلہ (صدقہ، ہبہ ) وصول کرنا فی نفسہ جائزہے   البتہ لوگوں سے لی گئی رقمیں پوری امانت و دیانت کے ساتھ شرعی ضابطہ کے مطابق خرچ کرنا ضروری ہے۔ صدقات واجبہ اور صدقات نافلہ کے خرچ میں فرق ہے اور وہ یہ کہ صدقات واجبہ میں مستحقین زکوۃ کو بلا عوض  مالک بنانا ضروری ہے چنانچہ صدقات واجبہ کی رقم یا سازوسامان کسی مستحق کی تملیک کے بغیر استعمال نہیں کیا جا سکتا  جبکہ صدقات نافلہ کو مالک کی مرضی اور اجازت کے مطابق کسی بھی مد میں استعمال کیا جا سکتا ہے  ۔

(3،4،5)    ادارہ/ ٹرسٹ اپنے ملازمین کی تنخواہیں  ، آفس کے اخراجات (کرایہ ، یوٹیلیٹی بلز ، فرنیچر وغیرہ)  اور ادارے کی ضروریات کے لئے دیگر اشیاء (مثلا: گاڑی ، یونیفارم ، پیکنگ شاپر  وغیرہ) کی خریداری ان صدقات نافلہ سے تو کر سکتا ہےجو ادارہ کےعمومی  مصارف کے لئے جمع کئے گئے ہوں  جبکہ صدقات واجبہ سے تب تک نہیں کر سکتا جب تک کوئی مستحق  تملیک کر کے اپنی خوشی سے ادارے کو نہ دے دے۔

(6)  ادارے کا چیئرمین اگر سید ہو تو  درج بالا وضاحت کے مطابق ادارے میں کام کرنے کے عوض  اسے تنخواہ دینا درست ہے البتہ  ادارہ کے ذمہ دار افراد کے تجربہ سے عرف کے مطابق تنخواہ مقرر کی جائے۔

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد)۔۔۔۔۔۔۔۔۔ إن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الاشياء۔۔۔۔قوله ( نحو مسجد ) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكرى الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه۔ (رد المحتار علی الدر المختار ، باب المصرف ، 2/344)

وقيد بالزكاة لأن النفل يجوز للغني كما للهاشمي۔ (البحر الرائق ، باب المصرف ، 2/263)


فتویٰ نمبر : 8697/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور