بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نابالغ بچوں کے عمل کا ثواب اور ایصال ثواب


سوال

کیافرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ کے بار ے میں کہ اگر کوئی میت کو ایصال ثواب کرنے کے لیے چھوٹے نابالغ بچوں سے ختم قرآن کرائے اور وہ بچے ختم قرآن کاثواب میت کوبخشیں توکیا میت کو اس کاثواب ملے گا؟ جب کہ مشہور یہ ہے کہ نابالغ بچوں کے نیک اعمال کاثواب والدین کو پہنچتاہے، تو جب بچے کو اس کے اعمال کاثواب ملتا ہی نہیں تووہ ایصال ثواب کس طرح کرے گا؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

جواب

جب کوئی نابالغ بچہ نماز،تلاوت یاکوئی دوسرانیک عمل کرتا ہے تواس کاثواب  اسی بچے کوپہنچتاہے، البتہ اس کے والدین کو بھی اس کی تعلیم وتربیت پر  اجر ملتا ہے۔ لہٰذا جب اصل ثواب بچے کو پہنچتا ہے تواس کو یہ اختیار بھی حاصل ہے  کہ وہ  اس ثواب کو کسی کے حق میں بخش دے ۔ نیزایصال ثواب کرنے میں بچے کاکوئی ضررونقصان بھی نہیں،بلکہ نفع محض ہے کیونکہ ایصال ثواب کرنے سے  اس کے اپنے ثواب میں کوئی کمی نہیں آتی،اسی لیے ولی کی اجازت پرموقوف نہیں۔

          "عن ابن عمررضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا تصدق أحدكم بصدقة تطوعا فليجعلها عن أبويه فيكون لهماأجرها ولاينقص من أجره شيئ"(شرح الصدور،باب ماينفع الميت في قبره ص300)

"وقد قالوا حسنات الصبي له لا لأبويه بل لهما ثواب التعليم" (الدرالمختار،باب صلواة الجنازة،ج2ص215)

"وتصح عباداتہ وإن لم تجب عليه واختلفوا في ثوابهما والمعتمد أنه له وللمعلم ثواب التعليم وكذا جميع حسناته"    (شرح الاشباه والنظائر،الفن الثالث،أحكام الصبيان،ج3ص22)

"حسنات الصغير قبل أن يجرى عليه القلم للصبى لالأبيه لقوله تعالى" وأن ليس للإنسان إلا ماسعى وهذا قول عامة مشائخنا" (أحكام الصغار على هامش جامع الفصولين ، مسائل الكراهية 1/148)


فتویٰ نمبر : 8699/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور