بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

نانی کا دودھ پینے والے خالہ زادوں کا آپس میں نکاح کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکے اور لڑکی کاآپس میں تقریباً ایک سال پہلے ازدواجی تعلق قائم ہوا ہے اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے، میاں بیوی دونوں آپس میں خالہ زاد ہیں،اب ایک سال گزرجانے کے بعدزوجین کی نانی یہ دعوٰی کررہی ہے کہ میں نے ان دونوں کو بچپن میں اپنا دودھ پلایا ہے۔ اور نانی کاایک بیٹا (ان کاماموں)بھی یہ گواہی دیتاہے( جو کہ خود اس وقت چھوٹا تھا )کہ ان دونوں نے دودھ پیاہے۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ان دونوں کا یہ نکاح درست ہے یانہیں؟ اور باقی ازدواجی زندگی آپس میں گزارسکتے ہیں یانہیں؟

جواب

رضاعت کاثبوت گواہی یااقرار سے ہوتا ہے،یعنی جب رضاعت کے بارے میں  دوعادل مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں  یا خودرضیع (دودھ پینے  والا) اپنی رضاعت کااقرار کرے  توایسی صورت میں رضاعت ثابت ہوجاتی ہے، صورت مسؤلہ میں اگرخالہ زاد زوجین کی رضاعت پر دو عادل مرد یاایک مرد اور دو عورتیں بطور گواہ کے موجود ہوں   یاخود زوجین اپنی رضاعت کے اقرار کرتے ہوں تو ایسی صورت میں  یہ دونوں آپس میں رضاعی بہن بھائی ہیں ،لہذا   ان کایہ نکاح فاسد ہے  اور شوہر پر واجب ہے کہ وہ فی الفور بیوی کو طلاق  یادوسرے متارکت کے الفاظ کے ساتھ  اپنے آپ سے جداکردے، پھر بیوی کواختیار ہے کہ  وہ عدت گزارنے کے بعد  کسی اور شخص سے نکاح کرلے۔ اور اب تک جو اولاد پیدا ہوچکی ہے وہ ان سے ثابت النسب ہوگی۔ اور اگر  گواہوں کانصاب پورا نہ ہو اور نہ ہی زوجین رضاعت کااقرار کرتے ہوں تو ایسی صورت میں رضاعت ثابت نہیں ہوگی اور نکاح اپنی حالت پر باقی رہے گا۔

          "وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ"            (النساء 23)

"عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَة"(ابوداؤد،کتاب النکاح،باب مایحرم من الرضاعۃ مایحرم من النسب،1/287)

"وَبِثُبُوتِ حُرْمَةِ الْمُصَاهَرَةِ وَحُرْمَةِ الرَّضَاعِ لَا يَرْتَفِعُ بِهِمَا النِّكَاحُ حتى لَا تَمْلِكُ الْمَرْأَةُ التَّزَوُّجَ بِزَوْجٍ آخَرَ إلَّا بَعْدَ الْمُتَارَكَةِ وَإِنْ مَضَى عليه سنُونَ"(البحرالرائق، کتاب الرضاع،3 /400)

"فالرضاع یظھر بأحدالأمرين :أحدهما الإقرار والثاني البينة أماالإقرار فهو أن  يقول لامرأة تزوجها هي أختي من الرضاع ۔۔۔ويثبت على ذالك۔۔۔ وأما البينة فهى أن يشهد على الرضاع  رجلان  ،أورجل وامرأتان۔۔۔فإذا شهدت امرأة على الرضاع ،فالأفضل للزوج أن يفارقها"۔ (بدائع الصنائع،كتاب الرضاع ،فصل فيما يثبت به الرضاع،5/103تا106)

"في البزازية المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة  أما لو أنكر وقال اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق وعدم مجيء أحدهما إلى الآخر بعد الدخول ليس متاركة لأنها لا تحصل إلا بالقول  وقال صاحب المحيط وقبل الدخول أيضا لا يتحقق إلا بالقول"  (ردالمحتار،مطلب فی النکاح الفاسد،4/277)


فتویٰ نمبر : 6161/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور